ڈھب کا
معنی
١ - مرضی کے مطابق، حسب دلخواہ۔ غزل حقّی ہوئی ہے یہ اپنے ڈھب کی ذرا وہ شعر پھر پڑھنا شروع کا ( ١٩٨١ء، حرفِ دل رس، ٨٦ ) ٢ - معقول، مناسب۔ "اگر کوئی ڈھب کا آدمی مل گیا تو کل ھی دہلی سے بجھوا دوں گا۔" ( ١٩٣٦ء، مکتوباتِ عبدالحق، ١٢٥ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم کیفیت 'ڈھب' کے ساتھ اسی زبان سے مشتق حرفِ اضافت 'کا' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٤٥ء کو "احوال الانبیا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - معقول، مناسب۔ "اگر کوئی ڈھب کا آدمی مل گیا تو کل ھی دہلی سے بجھوا دوں گا۔" ( ١٩٣٦ء، مکتوباتِ عبدالحق، ١٢٥ )